
پٹواری دنیا کی وہ قوم ہے جو رسی سے سانپ بنانے کا گر بہت اچھے سے جانتے ہے. ن۔ لیگ کے پٹواری ایسی ایک مخلوق ہے جو الٹے کاموں میں مہارت رکھتے ہے۔
آج گاڈ فادر اور اسکے حواریوں کے علاوہ کچھ بکاؤ میڈیا ہاوسز نے ٹی وی پر وبال بنایا کہ عمران خان نے تحریری طور
پر عدالت میں جواب جمع کروایا ہے کہ اسکی کرکٹ کی کمائی اور لندن فلیٹس کی منی ٹریل دستیاب ہی نہیں ہے. اور اب یہ طعنے دے رہے ہیں کہ عمران خان خود تو منی ٹریلدے نہیں سکتے اور نواز شریف اور باقیوں سے منی ٹریل مانگتے پھرتے ہیں. ایسی ٹویٹ مریم صفدر نے بھی کی۔ تو چلیں آپ کو بتاتے ہیں کہ اصل حقائق کیا ہیں:۔
حنیفے پوڈری نے عدالت میں عمران خان کے خلاف بنی گالہ پراپرٹی کے بارے میں کیس
کروایا ہے کہ عمران خان ہمیں بتائے کہ اس نے کن پیسوں سے اور کیسے بنی گالہ کی پراپرٹی خریدی. جس پر عمران خان نے بنی گالہ سے متعلق تمام دستاویزات پیش کردیں.جس میں بنک کاعذات بھی شامل تھے. بنی گالہ کی زمین چونکہ جمائما خان نے خریدی تھی جسکو بعد میں جمائمہ نے عمران خان کو گفٹ کردی تھی. لیکن جب انکی طلاق ہوئیتو عمران خان نے اپنے لندن کے فلیٹ کو بیچ کر جمائمہ بی بی کو یہ ادائیگی کردی تھی. ادائیگی چونکہ قسطوں میں ہوئی تھی اور عمران خان کے ایک دوست راشد خان کےذریعے ہوئی تھی اسلئے بنک کاغذات میں راشد خان کے نام سے پیسے جمائما بی بی کو ٹرانفسر ہوئے تھے. کچھ ٹرانزیکشن میں جمائما کا نام لکھا ہوا تھا جبکہ کچھ میں صرفاکاؤنٹ نمبر درج تھا. جن ٹرانزیکشن میں جمائما بی بی کا نام درج نہیں تھا انکی بنک تفصیلات عمران خان نے جمائما سے منگوا کر عدالت میں جمع کروادی تھیں ۔اس طرح سےبنی گالہ کی پراپرٹی کی منی ٹریل تو عمران خان نے پوری کی پوری عدالت میں جمع کروادی تھی.
اسکے بعد حنیفے پوڈری کے وکیل اکرم شیخ صاحب جو سپریم کورٹ میں پانامہ کیس میں میاں صاحب کے بچوں کیطرف سے جعلی کاغذات جمع کراچکے ہیں نے عدالت سےدرخواست کی کہ اب عمران خان بتائیں کہ اس نے لندن میں فلیٹ کیسے خریدا، اسکے ایسے کونسی ذرائع آمدن تھیں جن سے عمران خان نے فلیٹ خریدا.
جس پر آج 22 جولائی 2017 کو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت میں فلیٹ سے متعلق کاغذات جمع کروادیئے ہیں.
فلیٹ کی قیمت 1 لاکھ سترہ ہزار پاؤنڈ تھی جو کہ 1884 میں مورگیج کرایا گیا اور ابتدائی61 ہزار پاؤنڈ ادائیگی کی گئی. اور بقایا 56 ہزار پاؤند کی ادائیگی 5 سال میں کی گئییعنی 1989 تک تمام ادائیگی کی گئی.
مورگیج بیس سال کیلئے تھی لیکن عمران خان نے پانچ سال کے دوران ہی ساری رقم جمع کرادی تھی.
اب ذرا بات کرتے ہیں ان ذرائع کی جس سے عمران خان نے یہ حلال کے پیسے کمائے.
عمران خان نے 1971 سے کرکٹ کھیلنی شروع کی تھی جب وہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے آکسفورڈ یونیورسٹی کے طالبعلم تھے. عمران خان نے 1971 سے لیکر 1988تک کاؤنٹی کرکٹ کھیلی.
1971 میں انہوں نے وارسٹرشائر کاؤنٹی کلب سے کرکٹ کھیلی. 1977 سے لیکر 1988 تک عمران خان نے سسیکس کاؤنٹی کلب سے کرکٹ کھیلی. جسمیں اسوقت انکو کم ازکم 25 ہزار پاؤنڈ سالانہ ملتے تھے. اسکے علاوہ میچ میں حاصل ہونے والے انعامات اور دیگر تحائف بھی انکو ملتے رہے ہیں.
عمران خان نے 1977 سے 1979 تک کیری پیکر کرکٹ سیریز کھیلی اوراس سیریز سے عمران خان کو سالانہ 25 ہزار ڈالر ملتے تھے.
1984 سے لیکر 1985 تک آسٹریلیین نیو ساؤتھ ویلز کاؤنٹی کلب کیطرف سے کرکٹ کھیلی جنکی طرف سے اسے 50 ہزار آسٹریلوی ڈالر دیئے گئے.
اسکے علاوہ عمران خان کو 1988 میں ویسٹ منسٹر بنک کی طرف سے 1لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ کا(Benefits Fund) رقم ادا کی گئی جو سسکس کاؤنٹی کلب کیطرف سے اعزازیہتھا. جو انکو انکی سسکس کاؤنٹی کیلئے کھیلنے کی خدمات کی مد میں ملیں تھیں.
اسطرح اگر ہم اس اوپر بتائی گئی رقوم یا آمدن کو جمع کریں تو یہ کل 3 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ بنتے ہیں. جب کہ عمران خان کو صرف عدالت میں 1 لاکھ سترہ ہزار پاؤنڈ کا جوابدینا تھا.
اب جس بات کو جواز بناکر ن لیگ کے پٹواری اور کچھ میڈیا گروپس شور مچارہے ہیں کہ عمران خان نے عدالت میں بیان جمع کروایا ہے کہ اسے منی ٹریل نہیں ملی تو وہسسکس کاؤنٹی کلب کی طرف سے انکا تصدیق شدہ لیٹر ہے جسمیں انہوں نے یہ تصدیق کی ہے کہ عمران خان 1977 سے لیکر 1988 تک سسکس کاؤنٹی کلب کیلئے کھیلتےرہے ہیں اور انکو ہر سیزن کے تقریبا 25 ہزار پاؤنڈز دیئے جاتے تھے. لیکن ہمارے پاس 20 سالہ پرانا ریکارڈ موجود نہیں ہے. اگر سسکس کاؤنٹی کلب کی اداکردہ رقم کو نکالبھی دیا جائے تو اسکے علاوہ باقی بچ جانے والی رقم بھی 1لاکھ سترہ ہزار پاؤنڈ بنتی ہے جو کہ فلیٹ کی مالیت تھی سے کئی گنا زیادہ ہے.
عمران خان اپنے دور کا کرکٹ کا بہترین کھلاڑی رہا ہے جسے اب بھی پوری دنیا مانتی ہے. عمران خان نے اشتہارات اور کمنٹری کی مد میں بھی کافی پیسے کمائے ہیں لیکنان پیسوں کا یہاں پر ذکر نہیں کیا گیا ہے.
پٹواری اور انکے حواری میڈیا گروپس پانامہ کیس میں اپنی خفت چپھانے اور عوام کو گمراہ کرنے کیلئے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر مسلسل پروپیگنڈا کررہے ہیں. لیکنعوام اب انکی چالبازیوں میں نہیں آنے والے اور ان دس نمبریوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنے کے خواہشمند ہیں.
یہ تو ہیں ہی پیدائشی جھوٹے اور مکار، ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان انکی جعل سازیاں اور جھوٹ پکڑ چکے ہیں. افسوس مجھے اس بات پر ہے کہ ہماری پاکستانی قوم کو کیسے شکر کوٹڈ پروپیگنڈا کے ذریعے ایک بار پھر سے بیوقوف بنانے کی کوشش کی گئی. اور تو اور ہمارے بہت انصافی بھائی بھی ان پروپیگنڈا کا شکار ہوجاتے ہیں. لہذا انکھیں کھلیں اور کان چوکنے رکھ کر ہم نے عمران خان کے ساتھ ملکر نیا پاکستان بنانا ہے. دنیا جس شخص کی تعریفیں کرکے نہیں تھکتی ہم پٹواریوں کے پروپیگنڈے میں آکر اس پر بھی شک کرنے لگتے ہیں
آخری مثال. اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ بتا یہ سو روپے کی چیز میں نے کن پیسوں سے خریدی ہے اور میں جواب میں اس سو روپے کی خریدی ہوئی چیز کی رسیدوںسمیت بتادو بلکہ سو روپوں کی بجائے 170 روپوں تک کا بتادو لیکن صرف یہ کہوں کہ ان 15 روپوں کے رسید اسوقت میرے پاس نہیں ہیں تو کیا آپ بھی پٹواریوں کی طرح کہیں گے کہ میں نے آپکو منی ٹریل نہیں دی
